المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ باب: چمڑے کے موزوں پر مسح کرنے کے احکام کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَرِيمَ بْنِ الْأَسْعَدِ الْخَارِفِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَقَدْ كَانَ خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ . قَالَ : " ثُمَّ أَتَى دِجْلَةَ وَعَلَيْهِ خُفَّانِ رَنْدَجَانِ ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ مَرَّةً ، وَقَالَ هَكَذَا بِكَفِّهِ بِأَصَابِعِهِ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ " .
102 \ 2 - حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ يَرِيمَ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ : " رَأَيْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَالَ ثُمَّ أَتَى دِجْلَةَ فَتَوَضَّأَ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ مَرَّةً ، وَقَالَ : هَكَذَا بِكَفِّهِ بِأَصَابِعِهِ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ " .یریم بن اسعد الخارفی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، جنہوں نے دس سال تک نبی کریم ﷺ کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیا تھا۔ وہ بیان کرتے ہیں: ”پھر وہ دریائے دجلہ کے پاس آئے جبکہ وہ چمڑے کے دو پائیدار اور رنگے ہوئے موزے پہنے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر ایک بار مسح کیا، اور اپنی ہتھیلی اور انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا کہ اس طرح موزوں کی پشت یعنی اوپری سطح پر مسح کیا جاتا ہے۔“
یریم ابو العلاء سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا، پھر دریائے دجلہ کے قریب تشریف لائے اور وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر ایک مرتبہ مسح فرمایا، اور اپنی ہتھیلی اور انگلیوں سے اشارہ کر کے دکھایا کہ اس طرح موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا جاتا ہے۔“