❮
❯
حدیث نمبر: 1006
قَالَ الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : إِيَاسٌ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ مُبَارَكٌ ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، فَرَضَ اللهُ صِيَامَهُ ، وَجَعَلَ قِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا ، فَمَنْ تَطَوَّعَ فِيهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيمَا سِوَاهُ ، وَمَنْ أَدَّى فِيهِ فَرِيضَةً كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِينَ فَرِيضَةً ، فَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ ، وَهُوَ شَهْرُ الْمُوَاسَاةِ ، وَهُوَ شَهْرٌ يُزَادُ فِيهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ ، مَنْ فَطَّرَ فِيهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ عِتْقُ رَقَبَةٍ ، وَمَغْفِرَةٌ لِذُنُوبِهِ . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَيْسَ كُلُّنَا نَجِدُ مَا نُفَطِّرُ بِهِ الصَّائِمَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُعْطِي اللهُ تَعَالَى هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ ، أَوْ تَمْرَةٍ ، أَوْ شَرْبَةِ مَاءٍ ، وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةٌ لِذُنُوبِهِ ، وَسَقَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْقِصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا . وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ خَفَّفَ فِيهِ عَنْ مَمْلُوكِهِ أَعْتَقَهُ اللهُ مِنَ النَّارِ .
ترجمہ

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری دن ہمیں ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم پر ایک نہایت ہی بابرکت اور عظمت والا مہینہ سایہ فگن ہو چکا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ﴿لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾ [القدر: 3]، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں میں قیام (عبادت) کو نفل (ثواب کا کام) قرار دیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں نیکی کا کوئی کام بطورِ نفل کرے گا، وہ اس شخص کی مانند ہوگا جس نے دوسرے مہینوں میں کوئی فرض ادا کیا ہو، اور جو اس میں کوئی فرض ادا کرے گا، وہ ایسے ہے جیسے اس نے دوسرے مہینوں میں ستر فرائض ادا کیے ہوں۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے، یہ غم خواری اور باہمی ہمدردی کا مہینہ ہے، اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کے رزق میں برکت و اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس نے اس میں کسی روزے دار کا روزہ افطار کروایا، تو یہ عمل اس کے گناہوں کی مغفرت اور اسے آگ سے خلاصی کا ذریعہ بنے گا“۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر ایک کے پاس اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ وہ روزے دار کو افطار کروا سکے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرماتا ہے جو کسی روزے دار کو دودھ کی لسی کے ایک گھونٹ، ایک کھجور یا پانی کے ایک گھونٹ سے افطار کروا دے۔ اور جس نے کسی روزے دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا، اس کے گناہوں کی مغفرت ہوگی اور اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض (کوثر) سے ایسا جام پلائے گا کہ وہ جنت میں داخل ہونے تک کبھی پیاسا نہیں ہوگا، نیز اسے روزے دار کے برابر ثواب بھی ملے گا اور روزے دار کے اپنے ثواب میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوگی۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کا اول حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ دوزخ کی آگ سے آزادی ہے، اور جو شخص اس ماہ میں اپنے غلام (یا ماتحت) کے کام میں تخفیف و آسانی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اسے جہنم سے آزاد فرما دے گا“۔
وضاحت: اس حدیث مبارکہ کے مندرجات فضائلِ رمضان کے باب میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور مومن کو نیکیوں کی ترغیب دلاتے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1006
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 1887»