حدیث نمبر: 9050
وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ وَقَالَ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَنْ أَهْلِهِ وَمَسْؤُولٌ عَنْهُمْ ، وَامْرَأَةُ الرَّجُلِ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ عَنْهُمْ ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ ، أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي لُبَابَةَ فِي الصَّحِيحِ النَّهْيُ عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں پائے جانے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک شخص نگران ہے ، اور اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا امیر ، لوگوں کا نگران ہے اس سے اس کی نگرانی کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی اپنے اہلخانہ کا نگران ہے اس سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا آدمی کی بیوی اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اس سے اس کے حوالے سے حساب لیا جائے گا آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اس سے اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا خبردار تم میں سے ہر ایک نگران ہے ، اور تم میں سے ہر ایک سے حساب لیا جائے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث صحیح میں مذکور ہے جس میں صرف سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا تذکرہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9050
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4506)»