حدیث نمبر: 8480
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَطَيَّرَ أَوْ تُطُيِّرَ لَهُ ، أَوْ تَكَهَّنَ أَوْ تُكُهُّنَ لَهُ ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ ، وَمَنْ عَقَدَ عُقْدَةً - أَوْ قَالَ : عُقِدَ عُقْدَةٌ لَهُ - وَمَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا قَالَ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِسْحَاقَ بْنَ الرَّبِيعِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي السَّاحِرِ فِي أَوَاخِرِ الْحُدُودِ لِمَا يَسْتَحِقُّهُ السَّاحِرُ مِنَ الْقَتْلِ وَغَيْرِهِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو فال نکالے یا اس کے لئے فال نکالی جائے یا جو کہانت کرے یا اس کے لئے کہانت کی جائے یا جو جادو کرے یا اس کے لئے جادو کیا جائے یا جو گرہ لگائے ( یعنی جادو کرے ) راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : یا اس کے لئے گرہ لگائی جائے یا جو شخص کاہن کے پاس آئے ، اور اس کی کہی ہوئی بات کی تصدیق کرے ، تو وہ اس شریعت کا کفر کرتا ہے جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسحاق بن ربیع کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں جادوگر کے بارے میں کچھ احادیث آگے چل کر کتاب الحدود کے آخر میں آئیں گی جس میں یہ ذکر ہو گا کہ جادوگر اس بات کا مستحق ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے ، اور دیگر امور کا ذکر ہو گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8480
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3044)»