مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأطعمة— کھانوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْهِنْدَبَاءِ . باب: ہندباء ( کاسنی ) کا بیان
عَنْ بِشْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَعِنْدَهُ ابْنُهُ فَقَالَ : هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ فَقُلْتُ : قَدْ تَغَدَّيْتُ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : إِنَّهُ الْهِنْدَبَاءُ فَقُلْتُ : يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا الْهِنْدَبَاءُ ؟ فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ وَرَقٍ [ مِنْ وَرَقِ ] الْهِنْدَبَاءِ إِلَّا وَعَلَيْهَا قَطْرَةٌ مِنْ مَاءِ الْجَنَّةِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي بَابِ الِأَدْهَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ أَرْطَأَةُ بْنُ الْأَشْعَثِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤بشر بن عبداللہ بن عمرو بن سعید خثعمی بیان کرتے ہیں : میں محمد بن علی بن حسین ( یعنی امام باقر ) کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس ان کے صاحبزادے بھی موجود تھے انہوں نے فرمایا : آگے آؤ اور کھانا کھاؤ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! میں ناشتہ کر چکا ہوں ۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا یہ ہندباء ( یعنی کاسنی ) ہے میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے ! ہندباء کیا ہوتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہندباء ( یعنی کاسنی ) کے ہر ایک پتے پر جنت کے پانی کا ایک قطرہ ہوتا ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ مکمل روایت تیل لگانے سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ارطاۃ بن اشعث ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔