مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأحكام— احکام کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " . باب: گواہوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَدْ ضَادَّ اللَّهَ فِي مُلْكِهِ . وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ لَا يَعْلَمُ أَحَقٌّ أَمْ بَاطِلٌ فَهُوَ فِي سُخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ ، وَمَنْ مَشَى مَعَ قَوْمٍ يَرَى أَنَّهُ شَاهِدٌ وَلَيْسَ بِشَاهِدٍ فَهُوَ كَشَاهِدِ زُورٍ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ طَرَفَيْ شُعَيْرَةٍ . وَسِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَجَاءٌ السَّقَطِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی سفارش ، اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد میں رکاوٹ بن جاتی ہے ، ایسا شخص اللہ تعالی کی بادشاہی میں اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے ، اور جو شخص کسی اختلافی معاملے میں مدد کرتا ہے ، جس میں اس کو پتہ ہی نہ ہو کہ یہ حق ہے ، یا باطل ہے ؟ تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہتا ہے ، جب تک وہ اس سے الگ نہیں ہو جاتا ہے ، اور جو شخص کسی قوم کے ساتھ چل کر جاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ گواہ ہے ، حالانکہ وہ گواہ نہیں ہوتا ، تو ایسا شخص جھوٹی گواہی دینے والے کی مانند ہے اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرتا ہے ، تو اُسے اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو کناروں کے درمیان گرہ لگائے ، مسلمان کو برا کہنا فسق ہے اور اس کے ساتھ قتال ، کفر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رجاء سقطی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔