مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ رَدِّ الْمَغْصُوبِ أَوْ قِيمَتِهِ . باب: غصب شدہ چیز ، یا اس کی قیمت واپس کرنا
عَنْ ذُؤَيْبٍ أَنْ وَفْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرُّوا بِأُمِّ زَبِيبٍ ، فَأَخَذُوا زَرْبِيَّتَهَا ، فَرَكِبَ زَبِيبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخَذَ الْوَفْدَ زَرْبِيَّةَ أُمِّي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا عَلَيْهِ زَرْبِيَّةَ أُمِّهِ " فَأَخَذَ مِنَ الَّذِي أَخَذَ زَرْبِيَّةَ أُمِّهِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ وَسَيْفَهُ وَمِنْطَقَتَهُ . ثُمَّ رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَ زَبِيبٍ ، ثُمَّ قَالَ : " بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ يَا غُلَامُ ، وَبَارَكَ أُمَّكَ فِيكَ " . ¤ قَالَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ : الزَّرْبِيَّةُ : مِفْرَشٌ أَثْقَلُ مِنَ الرَّيْلُوكَةِ . قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ يَعْنِي : مَبْسُوطَةً . . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ زَبِيبٍ نَفْسِهِ ، وَهَذَا حَدِيثُ ذُؤَيْبٍ ، وَقَدْ بَيَّنَهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا ذؤیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وفد أم زبیب کے پاس سے گزرا ، ان لوگوں نے اس خاتون کا بچھونا لے لیا ، سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! وفد نے میری والدہ کا بچھونا لے لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی ماں کا بچھونا اسے واپس کرو ، پھر اس شخص نے ، جس نے ان کی والدہ کا بچھونا لیا تھا ، اس نے وہ بچھونا کھجور کے ایک صاع اور اپنی تلوار اور پٹکے کے عوض میں خرید لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بلند کیا اور اسے سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ کے سر پر پھیرا اور فرمایا : اسے لڑکے ! اللہ تعالیٰ تمہارے اندر برکت رکھے اور تمہاری ماں کو تمہارے حوالے سے برکت نصیب کرے “ ۔ موسیٰ بن ہارون کہتے ہیں : ” زربیہ “ بچھونے کو کہتے ہیں ، یہ ” ریلو کہ “ سے زیادہ وزنی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” پھیلے ہوئے بچھونے ہیں “ ۔ یعنی بچھے ہوئے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور
یہ روایت ذؤیب کی نقل کردہ ہے ” اطراف “ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔