حدیث نمبر: 6811
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ إِذَا دَفَعَ مَالًا مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ أَنْ لَا يَسْلُكَ بِهِ بَحْرًا ، وَلَا يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا ، وَلَا يَشْتَرِيَ بِهِ ذَاتَ كَبِدٍ رَطْبَةٍ ، فَإِنْ فَعَلَ فَهُوَ ضَامِنٌ ، فَرُفِعَ شَرْطُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجَازَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الْجَارُودِ الْأَعْمَى ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اپنا مال مضاربت کے طور پر دیتے تھے تو دوسرے فریق پر یہ شرط عائد کرتے تھے کہ وہ اسے لے کر سمندری سفر پر نہیں جائے گا ، اسے لے کر کسی وادی پر پڑاؤ نہیں کرے گا ، اس کے ذریعے کسی جاندار چیز کو نہیں خریدے گا ، اگر وہ ایسا کرے گا ، تو پھر وہ ( نقصان کی صورت میں ) ضامن ہو گا ، یہ شرط نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی ، تو آپ نے اسے درست قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجارود نابینا ہے اور متروک اور کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6811
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (764)»