مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْفَرَعَةِ وَالْعَتِيرَةِ . باب: فرعہ اور عتیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 6007
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : " اذْبَحُوا فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ وَأَطْعِمُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ وَاهِبٍ ، عَنْ عَمِّهِ أُنَيْسٍ ، وَكِلَاهُمَا لَا أَعْرِفُهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! زمانہ جاہلیت میں ہم عتیرہ کے طور پر جانور قربان کیا کرتے تھے تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کسی بھی مہینے میں ذبح کر لو خواہ وہ جو بھی مہینہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرو اور کھانا کھلاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں معاویہ بن واہب کی اپنے چچا انیس سے روایت کے طور پر نقل کی ہے اور ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔