مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأضاحي— اضاحی ( یعنی قربانی ) کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْفَرَعَةِ وَالْعَتِيرَةِ . باب: فرعہ اور عتیرہ کا بیان
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : أَتَاهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَسْتَفْتِيهِ عَنِ الرَّجُلِ : مَا الَّذِي يَحِلُّ لَهُ ، وَالَّذِي يَحْرُمُ عَلَيْهِ مِنْ مَالِهِ ، وَنُسُكِهِ ، وَمَاشِيَتِهِ ، وَعِتْرِهِ ، وَفَرَعِهِ مِنْ نِتَاجِ إِبِلِهِ وَغَنَمِهِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُحِلُّ لَكَ الطَّيِّبَاتِ ، وَأُحَرِّمُ عَلَيْكَ الْخَبَائِثَ، إِلَّا أَنْ تَفْتَقِرَ إِلَى طَعَامٍ ، فَتَأْكُلَ مِنْهُ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ ". ¤ وَأَنَّهُ سَأَلَهُ الرَّجُلُ حِينَئِذٍ ، فَقَالَ : مَا فَقْرِي الَّذِي آكُلُ ذَلِكَ إِذَا بَلَغْتُهُ؟ أَمْ غِنَايَ الَّذِي يُغْنِينِي عَنْهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلْيهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كُنْتَ تَرْجُو نَتَاجًا ، فَتَبْلُغْ بِلُحُومِ مَاشِيَتُكَ إِلَى نَتَاجِكَ ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو غَيْثًا تَظُنُّهُ مُدْرَكًا ، فَتَبْلُغُ إِلَيْهِ بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ ، أَوْ كُنْتَ تَرْجُو مِيرَةً تَنَالَهَا ، فَتَبْلُغُهَا بِلُحُومِ مَاشِيَتِكَ ، وَإِذَا كُنْتَ لَا تَرْجُو مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تَسْتَغْنِيَ عَنْهُ". قَالَ الْأَعْرَابِيُّ :وَمَا غِنَايَ الَّذِي أَدَعُهُ إِذَا وَجَدْتُهُ؟ قَالَ : " إِذَا رَوَيْتَ أَهْلَكَ غَبُوقًا مِنَ اللَّبَنِ ، فَاجْتَنِبْ مَا حُرِّمَ عَلَيْكَ مِنَ الطَّعَامِ وَأَمَا مَالُكَ فَإِنَّهُ مَيْسُورٌ كُلُّهُ لَيْسَ فِيهِ حَرَامٌ، ، غَيْرَ أَنَّ فِي نَتَاجِكَ مِنْ إِبِلِكَ فَرْعًا، وَفِي نَتَاجَكِ مِنْ غَنَمِكَ فَرْعًا ، تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى تَسْتَغْنِي ، ثَمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ، وَإِنْ شَئْتَ تَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ" ¤ وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتِرَ مِنَ الْغَنَمِ مِنْ كُلِّ مَائِةٍ عَتِيرَةٌ. ¤ قُلْتُ : هَكَذَا وَجَدْتُهُ فِي الْأَصْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : آپ کی ، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ، خدمت میں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے آپ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا کہ اس کے لئے کیا حلال ہے اور اپنے مال قربانی کے جانور اور دوسرے جانور اور عتیرہ اور فرعہ کے حوالے سے جو اس کے ہاں اونٹ یا بکری کا بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے حوالے سے کیا چیز اس پر حرام ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا میں تمہارے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتا ہوں اور خبیث چیزوں کو تم پر حرام قرار دیتا ہوں البتہ اگر تم کسی کھانے کے محتاج ہو جاؤ تو پھر تم اس میں سے اتنا کھا لو کہ اس سے بے نیاز ہو جاؤ اس وقت ایک شخص نے آپ سے پوچھا: اس نے عرض کی : غربت کا وہ معیار کیا ہو گا کہ جب میں اس تک پہنچ جاؤں کہ اس کے بعد میں اسے کھا سکتا ہوں یا وہ خوشحالی کیا ہو گی جو مجھے اس چیز سے بے نیاز کر دے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں یہ امید ہو کہ جانور کا بچہ پیدا ہو گا تو اس کے پیدا ہونے تک تم اپنے جانور کے گوشت کے ذریعے گزارا کرو اور جب تمہیں بادل کے بارے میں تمہیں امید ہو کہ وہ برسے گا تو تم اپنے مویشیوں کے گوشت پر گزارا کرو اور جب تمہیں یہ امید ہو کہ خوراک مل جائے گی تو بھی تم اس کے ملنے تک ) اپنے جانوروں کے گوشت پر گزارا کرو ، لیکن اگر تمہیں ان میں سے کسی چیز کی امید نہیں ہوتی تو تم اپنے گھر والوں کو جو مناسب سمجھو وہ کھلاتے رہو ، یہاں تک کہ تم اس سے بے نیاز ہو جاؤ ! دیہاتی نے کہا: خوشحالی کی وہ حد کیا ہے ؟ کہ جب میں اس کو پاؤں گا تو اس چیز کو چھوڑ دوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے اہل خانہ کو سیر ہو کے دودھ پلا دو تو اس چیز سے اجتناب کرو جو کھانا تم پر حرام قرار دیا گیا ہے جہاں تک تمہارے مال کا تعلق ہے ، تو اس پورے میں تمہارے لئے سہولت ہے اس میں کوئی چیز حرام نہیں ہے البتہ تمہارے اونٹ کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ جو فرعہ ہو یا تمہاری بکری کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ جو فرع ہو اس کا معاملہ مختلف ہے تمہارے جانور اس کو غذا فراہم کریں گے یہاں تک کہ وہ بے نیاز ہو جائے پھر اگر تم چاہو ، تو اسے اپنے اہل خانہ کو کھلا دو او اگر چاہو ، تو اس کا گوشت صدقہ کر دو “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ بکریوں میں عتیرہ کے طور پر جانور ذبح کرے ہر سو بکریوں میں ایک جانور ذبح کرے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے اپنی اصل میں یہ روایت اسی طرح پائی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔