مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا اشْتُرِطَ عَلَى أَهْلِهَا . باب: وہاں ( یعنی مدینہ منورہ ) کے رہنے والوں کے لئے کیا شرط عائد کی گئی ہے ؟
عَنْ ذِي مِخْبَرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اطَّلَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَهِيَ بَطْحَاءُ قَبْلَ أَنْ تُعَمَّرَ لَيْسَ فِيهَا مَدَرَةٌ وَلَا وَبَرٌ ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ يَثْرِبَ إِنِّي مُشْتَرِطٌ عَلَيْكُمْ ثَلَاثًا ، وَسَائِقٌ إِلَيْكُمْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ : لَا تَعْصِي ، وَلَا تَغُلِّي ، وَلَا تَكَبَّرِي ، فَإِنْ فَعَلْتِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ تَرَكْتُكِ كَالْحَرُورِ لَا يُمْنَعُ مِنْ أَكْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَالشَّامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے مدینہ ( کی سرزمین ) کی طرف جھانک کر دیکھا جو اس وقت میدان تھا یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے کہ وہاں کوئی کچا یا پکا گھر موجود نہیں تھا اللہ تعالی نے فرمایا : اے اہل یثرب میں تم پر تین چیزوں کی شرط عائد کرتا ہوں اور تمہاری طرف ہر قسم کے پھل لے کے آؤں گا ، تم نے نافرمانی نہیں کرنی ، اور تم نے غلو نہیں کرنا اور تم نے تکبر نہیں کرنا اگر تم نے اس میں سے کچھ بھی کیا ، تو میں تمہیں ایسے اونٹ کی مانند چھوڑ دوں گا ، جسے کھانے سے منع نہیں کیا جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے اور وہ شامی ہے اور ضعیف ہے ۔