مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ سَلِمَ حَجُّهُ مِنَ الذُّنُوبِ . باب: جس شخص کا حج گناہوں سے سلامت ہو
عَنْ حِسْلٍ - أَحَدِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ - قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ - وَنَحْنُ مَعَهُ - عَلَى رَجُلٍ قَدْ فَرَغَ مِنْ حَجِّهِ فَقَالَ لَهُ : " أَسَلِمَ لَكَ حَجُّكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " ائْتَنِفِ الْعَمَلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا حسل رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنی عامر بن لؤی سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : اپنے حج کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ہم آپ کے ساتھ تھے وہ شخص حج سے فارغ ہو گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا تمہارا حج سلامت رہا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم نئے سرے سے عمل شروع کرو ( یعنی تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو چکی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔