مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ الْمُكَبِّرِ وَالْمُلَبِّي . باب: تکبیر کہنے والے اور تلبیہ پڑھنے والے کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : نَزَّلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُهِلُّ ، فَلَمْ يَعِبْ مُكَبِّرُنَا عَلَى مُهِلِّنَا ، وَلَا مُهِلُّنَا عَلَى مُكَبِّرِنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فِي بَابِ التَّلْبِيَةِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا ہم میں سے کچھ لوگ تکبیر پڑھ رہے تھے اور کچھ لوگ تلبیہ پڑھ رہے تھے تو تکبیر پڑھنے والا تلبیہ پڑھنے والے پر اور تلبیہ پڑھنے والا تکبیر پڑھنے والے پر کوئی اعتراض نہیں کر رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے حوالے سے یہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے تھے
یہ روایت تلبیہ پڑھنے سے متعلق باب میں گزری ہے ۔