حدیث نمبر: 5251
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ ، عَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ قَدْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ ، قَالَ : كَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي عُمْرَتِي ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ ؟ " . فَقَالَ : أَنَا . فَقَالَ : " أَلْقِ ثِيَابَكَ وَاغْتَسِلْ ، وَاسْتَنْقِ مَا اسْتَطَعْتَ ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ خلوق ( نامی مخصوص قسم کی خوشبو ) میں لتھڑا ہوا تھا اور اس نے ( سلے ہوئے ) کپڑے پہنے ہوئے تھے اس نے عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے عمرے کے بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم اللہ تعالیٰ کے لئے حج اور عمرے کو مکمل کرو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عمرے کے بارے میں دریافت کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی : میں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے ( سلے ہوئے ) کپڑے اتار دو ! غسل کرو اور جہاں تک ہو سکے صاف کرو اور جو تم حج میں کرتے ہو وہی عمرے میں کرو ( یعنی اسی طرح احرام باندھو ) “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5251
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح