مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابُ فَرْضِ الْحَجِّ باب: حج کی فرضیت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَرْضَعًا فِيهِمْ ، فَقَالَ : يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . قَالَ : " قَدْ أَجَبْتُكَ " . قَالَ : أَنَا وَافِدُ قَوْمِي وَرَسُولُهُمْ ، وَأَنَا سَائِلُكَ وَمُشْتَدَّةٌ مَسْأَلَتِي إِيَّاكَ ، وَمُنَاشِدُكَ مُشْتَدٌّ مُنَاشَدَتِي إِيَّاكَ فَلَا تَجِدَنَّ عَلَيَّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أَخْبِرْنِي مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ ؟ قَالَ : " اللَّهُ " . قَالَ : نَشَدْتُكَ بِهِ أَهُوَ أَرْسَلَكَ بِمَا أَتَتْنَا بِهِ كُتُبُكَ ، وَأَتَتْنَا رُسُلُكَ أَنْ نَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنْ نَدَعَ اللَّاتَ وَالْعُزَّى ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : نَشَدْتُكَ بِهِ أَهُوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : وَأَتَتْنَا كُتُبُكَ ، وَأَتَتْنَا رُسُلُكَ أَنْ نُصَلِّيَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ أَهُوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أَتَتْنَا كُتُبُكَ وَأَتَتْنَا رُسُلُكَ أَنْ نَحُجَّ الْبَيْتَ فِي ذِي الْحِجَّةِ ، نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ أَهُوَ أَمَرَكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : هَؤُلَاءِ خَمْسٌ فَلَسْتُ أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ . فَلَمَّا قَفَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّهُ إِنْ فَعَلَ الَّذِي قَالَ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي الصَّلَاةِ رَوَاهَا أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي هَذِهِ الطَّرِيقِ مُوسَى بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قبیلے میں دودھ پیا ہوا تھا اس نے کہا: اے عبدالمطلب کے صاحبزادے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں جواب دینے کے لئے تیار ہوں ، اس نے کہا: میں اپنی قوم کا نمائندہ اور پیغام رساں ہوں میں آپ سے کچھ سوالات کروں گا آپ سے سوال کرتے ہوئے لہجے میں کچھ تیزی ہو سکتی ہے میں آپ سے کچھ گفتگو کروں گا آپ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے لہجے میں کچھ تیزی ہو سکتی ہے ، تو آپ برا نہیں مانیے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے اس نے کہا: آپ مجھے یہ بتائیے آسمان ، زمین ، جنت اور جہنم کو کس نے پیدا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس نے کہا: میں آپ کو اس ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا اس نے آپ کو اس چیز کے ہمراہ بھیجا ہے ، جو آپ کی تحریریں ہمارے پاس آئی ہیں اور آپ کے قاصدوں نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور ہم لات اور عزی کو ترک کر دیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اس نے دریافت کیا : میں آپ کو اس ذات کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا اس نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اس نے کہا: آپ کی تحریریں ہمارے پاس آئیں اور آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے ( اور انہوں نے ہمیں یہ بتایا ) کہ ہم نے روزانہ پانچ نمازیں ادا کرنی ہیں میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ کو اس نے یہ حکم دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں اس نے کہا: آپ کی تحریریں ہمارے پاس آئیں اور آپ کے قاصد ہمارے پاس آئے ( اور انہوں نے یہ بتایا کہ ہمیں بیت اللہ کا حج کرنا ہے میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا آپ کو اس نے اس بات کا حکم دیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اس نے کہا: یہ پانچ چیزیں ہیں میں ان میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے جو کہا: ہے اگر اس نے ویسا ہی کیا ، تو یہ جنت میں داخل ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس سے پہلے اس کے مختلف طرق نماز سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں جسے امام أحمد نے اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے ۔ اس کے بغض رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں اس سند میں ایک راوی موسیٰ بن ابوجعفر ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔