مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ الْمُجْحِفَةِ . باب: کمی کرنے والے صدقہ کا بیان
عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا ، وَقَدْ تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِمِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ ; فَرَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَقَالَ : " إِنَّمَا الصَّدَقَةُ خَمْسٌ ، وَإِلَّا فَعَشْرٌ ، وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ " . حَتَّى بَلَغَ الْأَرْبَعِينَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، قُلْتُ : رَوَاهُ أَحْمَدُ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا بِكَثِيرٍ ، وَأَنَّهَا كَانَتْ وَصِيَّةٌ ، وَلَمْ تُجِزْهَا الْوَرَثَةُ - وَيَأْتِي فِي الْوَصَايَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے زیر پرورش ایک یتیم لڑکا ہے میں نے اسے ایک سو اونٹ صدقہ کر دیے ہیں راوی کہتے ہیں : تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غضب کے آثار دیکھے آپ نے ارشاد فرمایا : صدقے میں پانچ اونٹ دیے جاتے ہیں دس دیے جاتے ہیں پندرہ دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ آپ نے چالیس تک کا ذکر کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام أحمد نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور یہ کہ وہ وصیت تھی ، اور ورثاء نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ یہ روایت وصیت سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اور اس کی سند حسن ہے ۔