مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ زَكَاةِ الْحُلِيِّ . باب: زیور کی زکوۃ کا حکم
حدیث نمبر: 4357
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، وَهُوَ يَسْأَلُ عَنْ حِلْيَةِ السَّيْفِ : أَمِنَ الْكُنُوزِ هِيَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، هِيَ مِنَ الْكُنُوزِ . فَقَالَ رَجُلٌ : هَذَا شَيْخٌ أَحْمَقُ قَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ . فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ : أَمَا أَنِّي مَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
محمد بن زیاد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو سنا ، ان سے تلوار کے زیور کے بارے میں دریافت کیا گیا : کیا یہ بھی خزانے میں شامل ہو گا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ خزانے میں شمار ہو گا ، ایک شخص نے کہا: یہ ایک احمق بوڑھا ہے ، جس کی عقل رخصت ہو چکی ہے ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے تمہیں وہی بات بیان کی ہے ، جو میں نے سنی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔