حدیث نمبر: 4355
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَنَا : " أَتُعْطِيَانِ زَكَاتَهُ ؟ " . قَالَتْ : فَقُلْنَا : لَا . قَالَ : " أَمَا تَخَافَا أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ أَسْوِرَةً مِنْ نَارٍ ؟ أَدِّيَا زَكَاتَهُ " . ¤ قُلْتُ : لِأَسْمَاءَ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْخَاتَمِ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ زَكَاةٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں اور میری خالہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، میری خالہ نے سونے کا کنگن پہنا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت کیا : تم اس کی زکوۃ ادا کرتی ہو ؟ ہم نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم دونوں اس بات سے ڈرتی نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے بنے ہوئے کنگن پہنا دے ؟ تم اس کی زکوۃ ادا کرو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت ہے ، جسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، وہ انگوٹھی کے بارے میں ہے ، اور اس میں گنگن کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4355
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (170/24) اخرجه الامام احمد فى المسند الكبير (461/6)»