مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي النِّفَاقِ وَعَلَامَاتِهِ وَذِكْرِ الْمُنَافِقِينَ . باب: نفاق اور اُس کی علامات کا بیان، نیز منافقین کا تذکره
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلْمُنَافِقِينَ عَلَامَاتٍ يُعْرَفُونَ بِهَا : تَحِيَّتُهُمْ لَعْنَةٌ ، وَطَعَامُهُمْ نُهْبَةٌ ، وَغَنِيمَتُهُمْ غُلُولٌ ، لَا يَقْرَبُونَ الْمَسَاجِدَ إِلَّا هَجْرًا ، وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا دُبُرًا مُسْتَكْبِرِينَ إِلَّا بِالْقَوْلِ ، لَا يَأْلَفُونَ وَلَا يُؤْلَفُونَ ، خُشُبٌ بِاللَّيْلِ صُخُبٌ بِالنَّهَارِ " ، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً : سُخُبٌ بِالنَّهَارِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” منافقین کی مخصوص علامات ہیں ، جن کے ذریعے وہ پہچانے جاتے ہیں ، ان کی تحیت ( یعنی سلام کرنے کا طریقہ ) لعنت ہوتی ہے ، اُن کا کھانا ، اُچک کر حاصل کی گئی چیز ہوتی ہے ، اُن کی غنیمت ، خیانت ہوتی ہے ، وہ صرف بلند آواز میں بری بات کہنے کے لیے مساجد کے قریب جاتے ہیں ، اور وہ نماز کی طرف پیٹھ پھیر دیتے ہیں ، وہ تکبر کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں ، نہ وہ ( مسلمانوں کے ساتھ ) الفت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان سے الفت رکھی جاتی ہے ، وہ رات کے وقت لکڑی ہوتے ہیں اور دن کے وقت چیخ و پکار کرتے ہیں “ ۔ یزید نامی راوی نے ایک مرتبہ لفظ ” صخب “ کی جگہ لفظ ” سخب “ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن قدامہ جمحی ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔