حدیث نمبر: 4108
عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ عُمَيْسٍ أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُوُفِّيَتْ ، وَكَانُوا يَحْمِلُونَ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَلَى الْأَسِرَّةِ سَوَاءً ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ بِالْحَبَشَةِ وَهُمْ نَصَارَى أَهْلِ الْكِتَابِ ، وَهُمْ يَجْعَلُونَ لِلْمَرْأَةِ نَعْشًا فَوْقَهُ أَضْلَاعٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يُوصَفَ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهَا ، أَفَلَا أَجْعَلُ لِابْنَتِكَ نَعْشًا مِثْلَهُ ؟ فَقَالَ : " اجْعَلِيهِ " ، فَهِيَ أَوَّلُ مَنْ جَعَلَ نَعْشًا فِي الْإِسْلَامِ لِرُقَيَّةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَلَفُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کا انتقال ہوا تو مردوں اور خواتین نے ان کی میت کو اٹھایا انہوں نے ( یعنی سید اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ ) نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حبشہ میں تھی وہاں اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے عیسائی رہتے تھے وہ لوگ عورت کے لئے چار پائی تیار کرتے تھے جس کے اوپر ( جانور کی ) پسلیاں رکھ دیتے تھے وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ عورت کی جسامت ظاہر ہو تو کیا میں آپ کی صاحبزادی کے لئے ایسی چارپائی تیار نہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے بنا لو یہ وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہ کے لئے ڈھانپی ہوئی چارپائی تیار کی تھی
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلف بن راشد ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4108
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1440)»