مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَتْرُكُ الْمَوْتَ أَحَدًا لِأَحَدٍ . باب: موت کسی کو کسی کے لئے نہیں چھوڑتی ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ بِمَكَّةَ مُقْعَدَانِ لَهُمَا ابْنٌ شَابٌّ فَكَانَ إِذَا أَصْبَحَ نَقَلَهُمَا فَأَتَى بِهِمَا الْمَسْجِدَ فَكَانَ يَكْتَسِبُ عَلَيْهِمَا يَوْمَهُ فَإِذَا كَانَ الْمَسَاءُ احْتَمَلَهُمَا فَأَقْبَلَ بِهِمَا ، فَافْتَقَدَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالَ : مَاتَ ابْنُهُمَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ تُرِكَ أَحَدٌ تُرِكَ ابْنُ الْمُقْعَدَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنُ نَجِيحٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ صَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مکہ میں دو اپاہچ میاں بیوی تھے ان کا ایک نوجوان بیٹا تھا جب صبح ہوتی تھی تو وہ ان دونوں کو منتقل کرتا تھا اور انہیں مسجد میں لے آتا تھا وہ دن بھر ان دونوں کے لئے کماتا تھا جب شام ہوتی تھی تو ان دونوں کو اٹھا کر ساتھ لے جاتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غیر موجود پایا تو اس کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ کو بتایا گیا کہ ان دونوں کا بیٹا فوت ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر کسی کو چھوڑا جاتا ، تو ان دو اپاہچ میاں بیوی کے بیٹے کو چھوڑ دیا جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس بارے میں ایک حدیث سورت ” ص“ کی تفسیر سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔