حدیث نمبر: 3887
عَنْ حِبَّانَ أَبِي النَّضْرِ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَلَى أَبِي الْأَسْوَدِ الْجُرَشِيِّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَجَلَسَ فَأَخَذَ أَبُو الْأَسْوَدِ يَمِينَ وَاثِلَةَ فَمَسَحَ بِهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَوَجْهِهِ لِبَيْعَتِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَقَالَ وَاثِلَةُ : وَاحِدَةٌ أَسْأَلُهُ عَنْهَا قَالَ : وَمَا هِيَ ؟ قَالَ : كَيْفَ ظَنُّكَ بِرَبِّكَ ؟ فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ وَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَيْ حَسَنٌ فَقَالَ وَاثِلَةُ : أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

حبان ابونضر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابواسود جرثی کی خدمت میں حاضر ہوا یہ ان کی اس بیماری کے دوران کی بات ہے ، جس میں ان کا انتقال ہوا تھا انہوں نے ہمیں سلام کیا ، اور تشریف فرما ہو گئے ابواسود نے سیدنا واثلہ کا ہاتھ پکڑا اور اس ہاتھ کو اپنی آنکھوں اور اپنے چہرے پر پھیرا اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا واثلہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی ہوئی تھی راوی کہتے ہیں : سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک چیز کے بارے میں ، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں انہوں نے کہا: وہ چیز کیا ہے ؟ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا اپنے پروردگار کے بارے میں گمان کیا ہے ، تو ابواسود نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے جواب دیا کہ وہ ( گمان ) اچھا ہے ، تو سیدنا واثلہ نے فرمایا : تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں اب وہ جو چاہے میرے بارے میں گمان رکھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح