حدیث نمبر: 3689
عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : لَمَّا أَظْهَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْإِسْلَامَ أَسْلَمَ أَهْلُ مَكَّةَ كُلُّهُمْ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ حَتَّى إِنْ كَانَ لِيَقْرَأُ السَّجْدَةَ فَيَسْجُدُونَ مَا يَسْتَطِيعُ بَعْضُهُمْ أَنْ يَسْجُدَ مِنَ الزِّحَامِ حَتَّى قَدِمَ رُؤَسَاءُ قُرَيْشٍ : الْوَلِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَأَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ وَغَيْرُهُمَا - وَكَانُوا بِالطَّائِفِ فِي أَرْضِهِمْ - فَقَالُوا : تَدَعُونَ دِينَ آبَائِكُمْ ! ؟ فَكَفَرُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا اظہار کیا ، تو تمام اہل مکہ اسلام لے آئے یہ نماز کی فرضیت سے پہلے کی بات ہے یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ تلاوت کرتے تھے تو سب لوگ سجدہ کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہجوم کی کثرت کی وجہ سے کچھ لوگ سجدہ نہیں کر پاتے تھے ، یہاں تک کہ قریش کے اکابرین ولید بن مغیرہ ، ابوجہل بن ہشام اور دیگر لوگ جو اس وقت طائف میں اپنی زمینوں پر موجود تھے وہ لوگ آئے ، تو انہوں نے کہا: کیا تم لوگ اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ رہے ہو ؟ تو ان لوگوں نے کفر شروع کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3689
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف