حدیث نمبر: 3092
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ حَتَّى جَلَسَ قَرِيبًا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ قَالَ : " مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُجَمِّعَ مَعَنَا ؟ "قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ حَرَصْتُ أَنْ أَضَعَ نَفْسِي بِالْمَكَانِ الَّذِي تَرَى قَالَ : " قَدْ رَأَيْتُكَ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ وَتُؤْذِيهِمْ، مَنْ آذَى مُسْلِمًا فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ : كَانَ يُخْطِئُ كَثِيرًا فَاسْتَحَقَّ التَّرْكَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر بیٹھ گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں کیا وجہ بنی کہ تم نے ہمارے ساتھ جمعہ ادا نہیں کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری یہ خواہش تھی کہ میں کسی ایسی جگہ پر بیٹھوں جسے آپ دیکھ رہے ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں دیکھا کہ تم لوگوں کی گردنیں پھلانگ رہے تھے ، اور انہیں اذیت پہنچا رہے تھے جو شخص مسلمان کو اذیت پہنچاتا ہے وہ مجھے اذیت پہنچاتا ہے ، اور جو شخص مجھے اذیت پہنچاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ کہتے ہیں : وہ بہت زیادہ غلطی کرتا تھا اس لئے ترک کیے جانے کا مستحق قرار پایا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3092
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف