مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ صِلَةِ الصُّفُوفِ وَسَدِّ الْفُرَجِ . باب: صفیں ملانا اور خالی جگہ کو پر کرنا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ خُطْوَةٍ مَشَاهَا رَجُلٌ إِلَى فُرْجَةٍ فِي الصَّفِّ فَسَدَّهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كَمَا هَا هُنَا وَالْبَزَّارُ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : "وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ" إِلَى آخِرِهِ وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ حَسَنٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے کندھے نماز میں زیادہ نرم ہوں ، اور کوئی بھی قدم اجر کے حوالے سے اس قدم سے زیادہ اجر والا نہیں ہوتا جسے آدمی اس لئے اٹھاتا ہے تاکہ صف کے درمیان موجود خالی جگہ کو پر کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، جس طرح یہاں ذکر ہوئی ہے ، اسے امام بزار نے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” کوئی بھی قدم “ یہاں سے لے کے آخر تک کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ، امام بزار کی سند حسن ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔