مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز کے دوران کس قدر عمل کرنا جائز ہے
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَكَانَ إِذَا صَلَّى لَنَا خَفَّفَ ، فَرَأَيْتُهُ أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا ، ثُمَّ أَنَّهُ رَكَعَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلِمْتُ أَنْ رَاعَكُمْ طُولُ صَلَاتِي وَقِيَامِي " قُلْنَا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَسَمِعْنَاكَ تَقُولُ : " أَيْ رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ شَيْءٍ وَعِدْتُمُوهُ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَدْ عُرِضَ عَلَيَّ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ مِنْهَا حَتَّى حَاذَى خِبَائِي هَذَا فَخَشِيتُ أَنْ يَغْشَاكُمْ، فَقُلْتُ :[ أَيْ رَبِّ ] وَأَنَا فِيهِمْ فَصَرَفَهَا اللَّهُ عَنْكُمْ فَأَدْبَرَتْ قِطَعًا كَأَنَّهَا الزَّرَابِيُّ ، فَنَظَرْتُ نَظْرَةً فِيهَا فَرَأَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُرْثَانَ بْنِ الْحَارِثِ أَحَدَ بَنِي غِفَارٍ مُتَّكِئًا فِي جَهَنَّمَ عَلَى قَوْسِهِ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا الْحُمْرِيَّةَ صَاحِبَةَ الْقِطَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ سَقَتْهَا" . ¤ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ : الصَّوَابُ : خُرْثَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ نے قیام کو طول دیا حالانکہ آپ جب ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو مختصر نماز پڑھایا کرتے تھے پھر میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جیسے آپ کسی چیز کو پکڑنے لگے ہیں اس کے بعد آپ رکوع میں چلے گئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا اور آپ تشریف فرما ہوئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ میری نماز اور قیام کی طوالت نے تمہیں پریشان کر دیا ہے ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا اے میرے پروردگار ! میں ان کے درمیان ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے آخرت کے حوالے سے جس بھی چیز کا وعدہ تم لوگوں کے ساتھ کیا گیا وہ میرے یہاں کھڑے ہونے کے دوران میرے سامنے پیش کی گئی یہاں تک کہ میرے سامنے جہنم پیش کی گئی اس میں سے کچھ حصہ میری طرف آیا یہاں تک کہ میری جگہ کے مد مقابل آ گیا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہیں نہ ڈھانپ لے ، تو میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! میں ان لوگوں کے درمیان موجود ہوں تو اللہ تعالی نے اس کو تم لوگوں سے پھیر دیا پھر کچھ ٹکڑے آئے ، جو بچھونوں ( یا قالینوں ) کی مانند تھے ، میں نے اُن کا جائزہ لیا تو میں نے عمران بن حرثان بن حارث کو دیکھا ، جس کا تعلق بنو غفار سے تھا وہ جہنم میں اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تھا اور میں نے اس میں حمیر قبیلے سے تعلق رکھنے والی اس عورت کو بھی دیکھا جو بلی والی تھی اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا وہ اس بلی کو کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں دیتی اور پینے کے لئے بھی کچھ نہیں دیتی تھی ( یہاں تک کہ باندھے جانے کی وجہ سے بلی بھوک کے عالم میں مر گئی ) ۔ أحمد بن صالح کہتے ہیں : درست لفظ خرثان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن محمد بن رشدین کا معاملہ مختلف ہے ۔