حدیث نمبر: 2481
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ خَلْفَهُ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ : " لَوْ رَأَيْتُمُونِي وَإِبْلِيسَ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي فَمَا زِلْتُ أَخْنُقُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لُعَابِهِ بَيْنَ إِصْبَعَيِّ هَاتَيْنِ : الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا، وَلَوْلَا دَعْوَةُ أَخِي سُلَيْمَانَ لَأَصْبَحَ مَرْبُوطًا بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَتَلَاعَبُ بِهِ صِبْيَانُ الْمَدِينَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرأت میں التباس ہوا ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : کاش تم لوگ مجھے اور ابلیس کو دیکھتے جب میں نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور میں اس کی گردن دبانے لگا یہاں تک کہ اس کے لعاب کی ٹھنڈک اپنی ان دونوں انگلیوں کے درمیان محسوس ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد انگوٹھا اور ساتھ والی انگلی تھی اگر میرے بھائی سیدنا سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2481
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔