مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز کے دوران کس قدر عمل کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2479
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ فَجَعَلَ يَهْوِي بِيَدِهِ فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ حِينَ انْصَرَفَ فَقَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ يُلْقِي عَلَيَّ شَرَرَ النَّارِ لِيَفْتِنَنِي عَنِ الصَّلَاةِ فَتَنَاوَلْتُهُ فَلَوْ أَخَذْتُهُ مَا انْفَلَتَ مِنِّي حَتَّى يُنَاطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو لوگوں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان آگ کے شرارے میری طرف ڈالنا چاہتا تھا تاکہ میری توجہ نماز سے ہٹا دے میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا اگر میں اس کو پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے خود کو چھڑا نہیں سکتا یہاں تک کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جانا تھا اور اہل مدینہ کے بچوں نے اسے دیکھ لینا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔