حدیث نمبر: 2461
عَنْ أَبِي مُوسَى وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقْرَأِ الْقُرْآنَ وَأَنْتَ جُنُبٌ وَلَا أَنْتَ رَاكِعٌ وَلَا أَنْتَ سَاجِدٌ ، وَلَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ وَلَا تُصَلِّ وَأَنْتَ عَاقِصٌ شَعْرَكَ وَلَا تَفْرِشْ ذِرَاعَيْكَ افْتِرَاشَ السَّبْعِ، وَلَا تَلَبَسِ الْقَسِّيَّ، وَلَا تَخْتِمْ بِالذَّهَبِ، وَلَا تَلْبَسْ خَاتَمَكَ فِي هَاتَيْنِ : السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عَلِيٍّ بَعْضُهُ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ الْبَزَّارُ كَمَا هَاهُنَا وَرَوَى أَحْمَدُ بَعْضَهُ وَزَادَ فِيهِ أَحْمَدُ : "وَلَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَلَا تَعْبَثْ بِالْحَصَى" ، وَفِي حَدِيثِ عَلِيٍّ : الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَحَدِيثُ أَبِي مُوسَى رِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم جنابت کی حالت میں قرآن کی تلاوت نہ کرنا اور تم رکوع کی حالت میں اور سجدے کی حالت میں ( قرآن کی تلاوت نہ کرنا ) اور تم کتے کے اقعاء کے طور پر بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھنا اور تم ایسی حالت میں نماز ادا نہ کرنا کہ تم نے اپنے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہو اور تم اپنے بازوؤں کو یوں نہ بچھانا جس طرح درندے بچھاتے ہیں ، اور تم قسی ( مخصوص قسم کا کپڑا ) نہ پہننا اور تم سونے کی انگوٹھی نہ پہننا اور ان دو انگلیوں میں انگوٹھی نہ پہننا شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت کا کچھ حصہ ” صحیح “ اور دوسری کتابوں میں مذکور ہے
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح نقل کی ہے امام أحمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے امام أحمد نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تم دو سجدوں کے درمیان اقعاء کے طور پر نہ بیٹھنا اور تم کنکریوں کے ساتھ نہ کھیلنا “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں حارث ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے تمام رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2461
درجۂ حدیث محدثین: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سند حارث کی وجہ سے ضعیف ہے، جبکہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی سند کے راوی ثقہ ہونے کی وجہ سے یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔