مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْعَقْرَبِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز کے دوران بچھو کو مار دینا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَقَامَ إِلَى جَنْبِهِ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ ، فَجَاءَتْ عَقْرَبُ حَتَّى انْتَهَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ تَرَكَتْهُ ، فَذَهَبَتْ نَحْوَ عَلِيٍّ فَضَرَبَهَا بِنَعْلِهِ حَتَّى قَتَلَهَا فَلَمْ يَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَتْلِهَا بَأْسًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِي طَرِيقِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، وَأَحَادِيثُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُسْتَقِيمَةٌ كَمَا قَالَ الْبُخَارِيُّ وَهَذَا مِنْهَا ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو گئے اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے لگے اسی دوران ایک بچھو آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ترک کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے جوتا مار کے قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے عبدالملک بن شعیب بن لیث بیان کرتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف معاویہ بن یحیی صدفی کا معاملہ مختلف ہے زہری کے حوالے سے اس کی نقل کردہ احادیث مستقیم ہیں جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ بات بیان کی ہے ، اور یہ روایت بھی ان روایات میں سے ایک ہے جمہور نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔