مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَسْحِ الْجَبْهَةِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز کے دوران پیشانی پر ہاتھ پھیرنا
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَمْسَحُ الرَّجُلُ جَبْهَتَهُ مِنَ التُّرَابِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَلَا بَأْسَ أَنْ يَمْسَحَ الْعَرَقَ عَنْ صُدْغَيْهِ [ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ أَثَرُ السُّجُودِ عَلَيْهِ ] " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ هَكَذَا سَمَّاهُ الْبَزَّارُ وَالْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ سَابُورَ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ¤سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” آدمی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے اپنی پیشانی سے مٹی کو نہ پونچھے البتہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اپنی کنپٹی سے پسینہ پونچھ لے کیونکہ فرشتے آدمی کے لئے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک سجدے کا نشان ( یعنی مٹی وغیرہ ) اس پر موجود رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبداللہ بن حکم بن نعمان بن بشیر ہے ، اور وہ متروک ہے امام بزار نے اس کا یہی نام بیان کیا ہے امام مزی نے محمد بن شعیب بن سابور کے حالات میں یہی بات بیان کی ہے امام ذہبی کہتے ہیں : یہ عیسیٰ بن عبدالرحمن ہے ۔