مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ النَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز کے دوران پھونک مارنا
حدیث نمبر: 2453
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَوْضِعَ سُجُودِهِ وَلَا يَدَعْهُ حَتَّى إِذَا هَوَى لِيَسْجُدَ نَفَخَ ثُمَّ سَجَدَ فَلْيَسْجُدْ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى نَفْخَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو تو وہ اپنے سجدے کے مقام کو تیار کر لے وہ اسے ایسے ہی نہ رہنے دے کہ جب وہ سجدے میں جانے کے لئے جھکے تو پہلے پھونک مارے اور پھر سجدہ کرے آدمی انگارے پر سجدہ کر لے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ ایسی جگہ پر سجدہ کرے ، جہاں اس نے پہلے پھونک ماری ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے ، اور وہ منکرالحدیث ہے ۔