مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَلْبِ الْمُؤْمِنِ وَغَيْرِهِ . باب: مؤمن اور غیر مؤمن کے دل ( کی حالت اور کیفیت ) کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ : قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَيْهِ غِلَافُهُ ، وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ ، وَقَلْبٌ مُصَفَّحٌ ; فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ فِيهِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصَفَّحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ ، فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقَرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ ، فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دل چار قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ دل جو مجرد ہو ، اس میں چراغ روشن ہوتا ہے ، ایک وہ دل جو پردے میں ہوتا ہے ، اُس پر اس کا غلاف چڑھا ہوتا ہے ، ایک دل اوندھا ہوتا ہے ، اور ایک دل کشادہ ہوتا ہے ، جہاں تک مجرد دل کا تعلق ہے ، تو وہ مومن کا دل ہے جس میں اس کا چراغ موجود ہوتا ہے اور اس میں اس کی روشنی ہوتی ہے ، جہاں تک غلاف والے دل کا تعلق ہے ، تو وہ کافر کا دل ہوتا ہے ، جہاں تک اوندھے دل کا تعلق ہے ، تو وہ منافق کا دل ہوتا ہے ، جو ( حق کو ) پہچان لیتا ہے اور پھر انکار کر دیتا ہے ، جہاں تک کشادہ دل کا تعلق ہے ، تو وہ ایسا دل ہے ، جس میں ایمان بھی ہوتا ہے اور نفاق بھی ہوتا ہے ، اس میں موجود ایمان کی مثال سبزی کی مانند ہے ، جسے صاف پانی بڑھا دیتا ہے ، اور اس میں موجود نفاق کی مثال ، اُس زخم کی مانند ہے ، جس میں پیپ اور خون زیادہ ہوتا ہے ، تو دونوں میں سے جس کی زیادتی ، دوسرے پر غالب آ جائے ، وہ حالت دوسری حالت پر غالب آ جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے ۔