مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الذِّكْرِ وَالسُّجُودِ . باب: مساجد کی فضیلت ، ذکر کے مقامات اور سجدے کے مقام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1931
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ صَبَاحٍ وَلَا رَوَاحٍ إِلَّا وَبِقَاعُ الْأَرْضِ يُنَادِي بَعْضُهَا بَعْضًا : يَا جَارَةُ هَلْ مَرَّ بِكِ عَبْدٌ صَالِحٌ صَلَّى عَلَيْكِ أَوْ ذَكَرَ اللَّهَ ؟ فَإِنْ قَالَتْ : نَعَمْ رَأَتْ لَهَا بِذَلِكَ عَلَيْهَا فَضْلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَصَالِحٌ الْمُرِّيُّ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہر صبح اور شام کے وقت زمین کے مختلف حصے ایک دوسرے کو پکار کر یہ کہتے ہیں : اسے پڑوسی ! کیا تم پر کوئی نیک بندہ گزرا جس نے تم پر نماز ادا کی ہو یا اللہ کا ذکر کیا ہوا اگر دوسرا حصہ یہ کہتا ہے جی ہاں ! تو وہ اس حوالے سے خود کو دوسرے پر فضیلت والا سمجھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے صالح مری نامی راوی ” ضعیف “ ہے ۔