حدیث نمبر: 18768
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ وَاسْتَفْهِمْ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُضِّلْتُمْ عَلَيْنَا بِالصُّوَرِ ، وَالْأَلْوَانِ ، وَالنُّبُوَّةِ ، أَفَرَأَيْتَ إِنْ آمَنْتُ بِمِثْلِ مَا آمَنْتَ بِهِ ، وَعَمِلْتُ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتَ بِهِ ; إِنِّي لَكَائِنٌ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَيُرَى بَيَاضُ الْأَسْوَدِ فِي الْجَنَّةِ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ عَامٍ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كُتِبَ لَهُ بِهَا عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ ، وَمَنْ قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ كُتِبَ لَهُ بِهَا مِائَةُ أَلْفِ حَسَنَةٍ ، وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ " . فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ نَهْلِكُ بَعْدَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالْعَمَلِ لَوْ وُضِعَ عَلَى جَبَلٍ لَأَثْقَلَهُ ، فَتَقُومُ النِّعْمَةُ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ فَتَكَادُ تَسْتَنْفِدُ ذَلِكَ كُلَّهُ إِلَّا أَنْ يَتَطَاوَلَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ ، وَنَزَلَتْ [ هَذِهِ السُّورَةُ ] : هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا ، إِلَى قَوْلِهِ : نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا " . قَالَ الْحَبَشِيُّ : وَإِنَّ عَيْنِي لَتَرَيَا عَيْنَكَ فِي الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَعَمْ " . فَاسْتَبْكَى الْحَبَشِيُّ حَتَّى فَاضَتْ نَفْسُهُ . فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُدَلِّيهِ فِي حُفْرَتِهِ بِيَدِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حبشہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے آپ سے سوال کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم سوال کرو اور فہم حاصل کرو ! اس نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کو ہم ( سیاہ فام لوگوں ) پر شکل و صورت ، رنگت اور نبوت کے حوالے سے فضیلت عطا کی گئی ہے ، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں بھی اسی طرح ایمان لے آتا ہوں ، جس طرح آپ ایمان رکھتے ہیں اور میں اس طرح عمل کرتا ہوں ، جس طرح آپ عمل کرتے ہیں ، تو کیا میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جنت میں سیاہ فام شخص کی سفیدی ایک ہزار سال کے فاصلے سے نظر آئے گی ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھ لے گا ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی وجہ سے اُس کے لئے ایک عہد نوٹ کر لیا جائے گا اور جو شخص سبحان اللہ و بحمدہ پڑھ لے گا ، اس کی وجہ سے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کے بعد ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ایک شخص ایسا عمل لے کر آئے گا کہ اگر اسے کسی پہاڑ پر رکھا جائے ، تو وہ اس کو بھی بوجھل محسوس ہو ، پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کھڑی ہو گی ، اور تقریباً اس سارے اعمال کو ختم کر دے گی ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ذریعے فضل کر دے ، پھر یہ سورت نازل ہوئی : ” کیا انسان پر ایسا زمانہ نہیں آیا جب وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا ذکر کیا جاتا ۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” نعمتوں اور بڑی بادشاہی ۔ “ اس حبشی شخص نے کہا: جنت میں میری آنکھیں بھی وہی چیز دیکھیں گی ، جو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو وہ حبشی شخص رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اُسے قبر میں اتارا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف