حدیث نمبر: 18547
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يُعْرَضُ أَهْلُ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوفًا ، فَيَمُرُّ بِهِمُ الْمُؤْمِنُونَ فَيَرَى الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ الرَّجُلَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَرَفَهُ فِي الدُّنْيَا فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ ، أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَغَثْتَنِي فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا ؟ " . قَالَ : " فَيَذْكُرُ ذَلِكَ الْمُؤْمِنُ ، فَيَعْرِفُهُ فَيَشْفَعُ لَهُ إِلَى رَبِّهِ فَيُشَفِّعُهُ فِيهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن اہل جہنم کو صفوں کی شکل میں پیش کیا جائے گا ، مؤمنین اُن کے پاس سے گزریں گے تو اہل جہنم میں سے ایک شخص مؤمنین میں سے ایک شخص کو دیکھے گا ، جس سے وہ دنیا میں واقف تھا اور یہ کہے گا : اے فلاں ! کیا تمہیں یاد ہے ؟ فلاں دن تم نے فلاں فلاں کام کے سلسلے میں مجھ سے مدد لی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو مؤمن کو وہ بات یاد آ جائے گی ، وہ اُسے پہچان لے گا اور پھر وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اس کی شفاعت کرے گا تو اس شخص کے بارے میں اس کی شفاعت قبول ہو گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4006)»