مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ تَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ جَرْيًا ، لَيْسَ بِمَشْقُوقٍ " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ فِي الْحَوْضِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . باب: نبی اکرم ﷺ کے حوض ( کوثر ) کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " حَوْضِي مَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ ، عَرْضُهُ كَطُولِهِ ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ [ يَنْثَعِبَانَ ] مِنَ الْجَنَّةِ ، أَحَدُهُمَا مِنْ وَرِقٍ ، وَالْآخَرُ مِنْ ذَهَبٍ ، وَهُوَ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، أَبَارِيقُهُ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ " . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ فِي إِمَاطَةِ الْأَذَى ، وَقَتْلِ ابْنِ خَطَلٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ ، وَفِي الْأُخْرَى صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میرا حوض ایلہ اور صنعاء کے درمیان ( فاصلے جتنا ) ہے ، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہے ، اس میں دو پرنالوں سے مسلسل پانی گرتا رہتا ہے ، وہ دونوں پرنالے جنت سے آ رہے ہیں ، ان دونوں میں سے ایک چاندی کا ہے اور دوسرا سونے کا ہے ، وہ ( یعنی اس کا مشروب ) دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے ، اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ پیاسا نہیں ہو گا ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے جو حوض کوثر کے بارے میں ہے لیکن اس کے علاوہ ہے ، وہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک حدیث کے درمیان نقل کی ہے جو تکلیف دہ چیز ہٹانے کے بارے میں اور ابن خطل کو قتل کرنے کے بارے میں ہے ، اس کے رجال سے صحیح میں استدلال کیا گیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے اسے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی سعید بن سلیمان نشیطی ہے اور دوسری میں ایک راوی صالح مری ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔