حدیث نمبر: 18481
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي فَإِذَا هِيَ مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ ، وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ ، وَإِذَا حَافَّتَاهُ - أَظُنُّهُ قَالَ : - قِبَابٌ تَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ جَرْيًا ، لَيْسَ بِمَشْقُوقٍ " . قُلْتُ : لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ فِي الْحَوْضِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے کوثر عطا کیا گیا ، میں نے اپنا ہاتھ لگایا تو وہ مشک اذفر تھا اور اس کی کنکریاں موتیوں کی تھیں ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اس کے دونوں کناروں پر خیمے ہیں ( اس کا پانی ) زمین پر بہتا ہے اور اس بہاؤ میں کوئی رکاوٹ ( یا وقفہ ) نہیں ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کچھ احادیث ” صحیح “ میں مذکور ہیں ، جو حوض کوثر کے بارے میں ہیں ، لیکن اس سیاق کے بغیر ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18481
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (5488)»