مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي رِفَاعَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ صِلَةَ بْنِ أَشْيَمَ قَالَ : أُصِيبَ أَبُو رِفَاعَةَ وَأَنَا فِي غَزَاةٍ ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ أَبَا رِفَاعَةَ عَلَى نَاقَةٍ سَرِيعَةٍ وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ قَطُوفٍ ، وَأَنَا عَلَى أَثَرِهِ فَيُعْرِجُهَا حَتَّى أَقُولَ الْآنَ أُسْمِعُهُ الصَّوْتَ ، ثُمَّ يُسَرِّحُهَا فَتَنْطَلِقُ وَأَتْبَعُهُ . فَأَوَّلْتُ رُؤْيَايَ : أَنَّهُ طَرِيقُ أَبِي رِفَاعَةَ آخُذُهُ وَأَنَا أَكَدُّ الْعَمَلَ بَعْدَهُ [ كَدًّا ] .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
صلہ بن اشیم بیان کرتے ہیں : سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے ، میں اس وقت ایک جنگ میں حصہ لے رہا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ ایک تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہیں اور میں ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوں ، جو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہے ، میں ان کے پیچھے ہوں اور وہ اپنی اونٹنی کو موڑ کر روک لیتے ہیں ، یہاں تک کہ میں یہ سوچتا ہوں کہ اب میں ان تک اپنی آواز پہنچا سکتا ہوں ، پھر وہ اسے چھوڑ دیتے ہیں تو وہ تیزی سے چل پڑتی ہے اور میں ان کے پیچھے جاتا ہوں ، تو میں نے اپنے خواب کی یہ تعبیر کی کہ یہ سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کا راستہ ہے ، جسے میں اختیار کروں گا ، اور ان کے بعد میں عمل میں بھرپور مشقت اٹھاؤں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔