حدیث نمبر: 16154
عَنْ صِلَةَ بْنِ أَشْيَمَ قَالَ : أُصِيبَ أَبُو رِفَاعَةَ وَأَنَا فِي غَزَاةٍ ، فَرَأَيْتُ كَأَنَّ أَبَا رِفَاعَةَ عَلَى نَاقَةٍ سَرِيعَةٍ وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ قَطُوفٍ ، وَأَنَا عَلَى أَثَرِهِ فَيُعْرِجُهَا حَتَّى أَقُولَ الْآنَ أُسْمِعُهُ الصَّوْتَ ، ثُمَّ يُسَرِّحُهَا فَتَنْطَلِقُ وَأَتْبَعُهُ . فَأَوَّلْتُ رُؤْيَايَ : أَنَّهُ طَرِيقُ أَبِي رِفَاعَةَ آخُذُهُ وَأَنَا أَكَدُّ الْعَمَلَ بَعْدَهُ [ كَدًّا ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

صلہ بن اشیم بیان کرتے ہیں : سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے ، میں اس وقت ایک جنگ میں حصہ لے رہا تھا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ ایک تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہیں اور میں ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوں ، جو چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہے ، میں ان کے پیچھے ہوں اور وہ سورج غروب ہونے کے قریب کے وقت میں داخل ہو جاتے ہیں ، پھر میں یہ سوچتا ہوں کہ اب میں ان تک اپنی آواز پہنچا سکتا ہوں ، پھر وہ اسے تیز رفتاری سے لے جاتے ہیں اور میں ان کے پیچھے جاتا ہوں ، تو میں نے اپنے خواب کی یہ تعبیر کی کہ وہ سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کے راستے میں ہیں ، اور میں انہیں پکڑ لوں گا اور ان کے بعد ” میں “ عمل میں بھرپور کوشش کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1283)»