مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي رَبِيعَةَ الْعَنْسِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ربیعہ عنسی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ رَوَاءٍ الْعَنْسِيَّ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَهُ يَتَعَشَّى ، فَدَعَاهُ إِلَى الْعَشَاءِ فَأَكَلَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ " . قَالَ رَبِيعَةُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ : " أَرَاغِبًا أَمْ رَاهِبًا " . قَالَ رَبِيعَةُ : أَمَّا الرَّغْبَةُ فَوَاللَّهِ مَا هِيَ فِي يَدِكَ ، وَأَمَّا الرَّهْبَةُ فَوَاللَّهِ إِنَّا بِبِلَادٍ لَا تَبْلُغُنَا جُيُوشُكَ وَلَا خُيُولُكَ ، وَلَكِنِّي خُوِّفْتُ فَخِفْتُ ، وَقِيلَ لِي : آمِنْ فَآمَنْتُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُبَّ خَطِيبٍ مِنْ عَنْسَ " . فَأَقَامَ يَخْتَلِفُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَاءَهُ فَوَدَّعَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ أَحْسَسْتَ حِسًّا فَوَائِلْ إِلَى أَدْنَى قَرْيَةٍ " . فَأَحَسَّ حِسًّا فَوَائِلَ إِلَى قَرْيَةٍ فَمَاتَ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں : سیدنا ربیعہ بن رواء عنسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ رات کا کھانا کھا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھانے کی دعوت دی ، انہوں نے کھانا کھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اپنی خوشی سے ایسا کر رہے ہو ؟ یا خوف کی وجہ سے ایسا کر رہے ہو ؟ تو سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک رغبت کا تعلق ہے تو اللہ کی قسم ! وہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے اور جہاں تک ڈر کا تعلق ہے ، تو اللہ کی قسم ! ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں کہ جہاں تک آپ کے لشکر نہیں پہنچے ہیں ، اور نہ ہی آپ کے گھڑ سوار پہنچے ہیں ، لیکن مجھے خوف دلایا گیا تو میں خوف کا شکار ہو گیا ، مجھ سے کہا: گیا کہ تم ایمان لے آؤ ، تو میں ایمان لے آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنس قبیلے کے لوگ بہترین خطیب ہوتے ہیں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے جانے لگے ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رخصت کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تمہیں طبیعت میں خرابی محسوس ہو ، تو تم قریب کی بستی کی طرف چلے جانا “ راوی کہتے ہیں : وہ وہاں سے روانہ ہوئے ، راستے میں انہیں طبیعت خراب محسوس ہوئی ، تو وہ قریب کی بستی میں چلے گئے اور وہاں اُن کا انتقال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔