حدیث نمبر: 16065
عَنْ أُمِّ عَاصِمٍ - وَهِيَ أُمُّ وَلَدِ سُفْيَانَ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ الْهُذَلِيِّ - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُ : " نُبَيْشَةَ الْخَيْرِ " . دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ أُسَارَى ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِمَّا أَنْ تَمُنَّ عَلَيْهِمْ ، وَإِمَّا أَنْ تُفَادِيَهُمْ ، فَقَالَ : " أَمَرْتَ بِخَيْرٍ ، أَنْتَ نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

ام عاصم ، جو سفیان بن سلمہ بن محبق ہذلی کی اُم ولد ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نبیشہ الخیر کا نام دیا تھا ، ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی موجود تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یا تو آپ ان پر احسان کیجئے ، یا پھر ان کا فدیہ قبول کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے بھلائی کے بارے میں مشورہ دیا ہے ، تم نبیشہ الخیر ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16065
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔