حدیث نمبر: 1547
وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو - وَكَانَ مِمَّنْ بَايَعَ [ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] تَحْتَ الشَّجَرَةِ - قَالَ : نَفَسَتِ امْرَأَتُهُ فَرَأَتِ الطُّهْرَ [ بَعْدَ عِشْرِينَ ] يَوْمًا فَاغْتَسَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ لِتَدَخُلَ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ فَوَجَدَ مَسَّهَا ، فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَتْ : فُلَانَةٌ . قَالَ : مَا بَالُكِ ؟ قَالَتْ : إِنِّي رَأَيْتُ الطُّهْرَ فَاغْتَسَلْتُ . فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ فَأَقَامَهَا عَنْ فِرَاشِهِ ، وَقَالَ : لَا تُغْوِينِي عَنْ دِينِي حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعُونَ يَوْمًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّي ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ إِلَّا مَا رَوَاهُ عَبَّاسٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . وَرَوَى غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ وَغَيْرِهِ أَنَّهُ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، جو ان افراد میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے ( بیعت رضوان کے موقعہ پر ) درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : اُن کی بیوی کو نفاس ہو گیا ، اُس نے بیس دن کے بعد ایک دن طہر دیکھ لیا اور غسل کر لیا ، پھر وہ آئی تاکہ ان کے ساتھ ان کے لحاف میں داخل ہو ، جب اُن صاحب نے ( اندھیرے میں ) اُس عورت کی قربت کو محسوس کیا ، تو دریافت کیا : کون ہے ؟ اس خاتون نے کہا: فلانی ، ان صاحب نے کہا: تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس خاتون نے کہا : میں نے طہر دیکھ لیا ہے ، تو میں نے غسل کر لیا ہے ، تو ان صاحب نے اس خاتون کو پاؤں مارا ، اور اسے اپنے بستر سے اُٹھا دیا اور بولے : تم مجھے میرے دین کے حوالے سے بھٹکانے کی کوشش نہ کرو ، جب تک چالیس دن نہیں گزر جاتے ( تم میرے پاس نہ آنا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے اور وہ ضعیف ہے ، اسے کسی نے ” ثقہ “ قرار نہیں دیا ، البتہ اس روایت کا معاملہ مختلف ہے ، جو عباس نے یحیی بن معین سے نقل کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، دیگر حضرات نے یحیی بن معین سے اور دیگر حضرات کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : یہ راوی ضعیف اور متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف