حدیث نمبر: 15391
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ مُلَمَّعَةٌ بِالذَّهَبِ ، وَنِسَاؤُهُ مُجْتَمِعَاتٌ فِي بَيْتٍ كُلُّهُنَّ ، وَأُمَامَةُ بِنْتُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ جَارِيَةٌ تَلْعَبُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ بِالتُّرَابِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ تَرَيْنَ هَذِهِ ؟ " . فَنَظَرْنَا إِلَيْهَا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا رَأَيْنَا أَحْسَنَ مِنْ هَذِهِ قَطُّ ، وَلَا أَعْجَبَ . فَقَالَ : " ارْدُدْنَهَا إِلَيَّ " . فَلَمَّا أَخَذَهَا قَالَ : " وَاللَّهِ لَأَضَعَنَّهَا فِي رَقَبَةِ أَحَبِّ أَهْلِ الْبَيْتِ إِلَيَّ " . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَأَظْلَمَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَضَعَهَا فِي رَقَبَةِ غَيْرِي مِنْهُنَّ ، وَلَا أَرَاهُنَّ إِلَّا أَصَابَهُنَّ مِثْلَ الَّذِي أَصَابَنِي ، وَوَجَمْنَا جَمِيعًا سُكُوتًا ، فَأَقْبَلَ بِهَا حَتَّى وَضَعَهَا فِي رَقَبَةِ أُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَبَّاسِ ، فَسُرِّيَ عَنَّا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یمنی موتیوں سے بنا ہوا ہار پیش کیا گیا جس پر سونا لگا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج گھر میں اکٹھی تھیں ، امامہ بنت ابوالعاص بن ربیع جو ایک بچی تھی ، وہ گھر کے ایک کونے میں مٹی کے ساتھ کھیل رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے ، ہم خواتین نے اس ہار کی طرف دیکھا اور ہم نے عرض کی : ہم نے اس سے زیادہ خوبصورت اور اس سے زیادہ عمدہ ( ہار ) کبھی نہیں دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مجھے دو ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا تو آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں یہ ہار اپنے اہل بیت میں سے اپنی سب سے زیادہ محبوب شخصیت کی گردن میں ڈالوں گا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان زمین میرے لئے تاریک ہو گئی ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہار میرے علاوہ کسی اور کی گردن میں نہ ڈال دیں اور دیگر ازواج کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ ان کی بھی وہی کیفیت تھی ، جو میری کیفیت تھی ، ہم سب خاموش رہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہار لے کے گئے اور آپ نے وہ ہار امامہ بنت ابوالعاص کے گلے میں ڈال دیا تو ہماری یہ کیفیت ختم ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کیا ہے امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15391
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (442/22) اخرجه احمد فى المسند (101/6)»