مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُكْشَفُ فِي الْحَمَّامِ . باب: حمام میں کون سے حصے کو بے پردہ کیا جا سکتا ہے؟
وَعَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ : الْفَخِذُ فِي الْمَسْجِدِ عَوْرَةٌ ، وَفِي الْحَمَّامِ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي بَابِ الْحَمَّامِ قَبْلَ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ : شَرُّ الْبَيْتِ الْحَمَّامُ ، تُكْشَفُ فِيهِ الْعَوْرَاتُ . وَقَوْلُ ابْنِ عُمَرَ لِلَّذِي يُنَوِّرُهُ إِذَا بَلَغَ حِقْوَيْهِ : اخْرُجْ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَرُوَاتُهُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ثِقَاتٌ . ¤ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں : میں نے امام اوزاعی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” زانو مسجد میں قابل ستر شمار ہو گا ، لیکن حمام میں قابل ستر نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حمام والے باب میں یہ بات گزر چکی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث منقول ہے : ” سب سے برا گھر حمام ہے ، جس میں پردے کا خیال نہیں رکھا جاتا “ ۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا اس شخص کو یہ کہنا ، جو انہیں نورہ لگا رہا تھا ، اور جب وہ تہبند باندھنے کی جگہ پر پہنچا ، تو انہوں نے فرمایا : تم نکل جاؤ ! “ ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، امام اوزاعی سے اس روایت کو نقل کرنے والے افراد ثقہ ہیں ۔