عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَبَّاسُ جَالِسٌ عَنْ يَمِينِهِ ، وَفَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عَنْ يَسَارِهِ ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْمَلِي لِلَّهِ خَيْرًا ; فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ - يَعْنِي ذَلِكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ : " يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْمَلْ لِلَّهِ خَيْرًا ; فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، ادْنُ " فَدَنَوْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، ادْنُ " فَدَنَوْتُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا حُذَيْفَةُ ، مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، وَآمَنَ بِمَا جِئْتُ بِهِ ; حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ، وَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُسِرُّ هَذَا أَوْ أُعْلِنُهُ ؟ قَالَ : " أَعْلِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ قَطَرِيٍّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَقَطَرِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف تشریف فرما تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ ! تم اللہ تعالیٰ کے لیے بھلائی کا عمل کرو ، کیونکہ میں قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا ہے : اے جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے ! جناب عباس ! اے اللہ ، کے رسول کے چچا ! آپ اللہ تعالیٰ کے لیے بھلائی کا عمل کریں ، کیونکہ قیامت کے دن میں اللہ تعالٰی کے مقابلے میں آپ کے کسی کام نہیں آ سکتا ، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حذیفہ ! قریب ہو جاؤ ! میں قریب ہوا ، تو آپ نے پھر یہ فرمایا : اے حذیفہ ! قریب ہو جاؤ ! میں قریب ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے حذیفہ ! جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ ، اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ شخص اس بات پر ایمان رکھے ، جو میں لے کر آیا ہوں ، تو اللہ تعالٰی اس پر آگ کو حرام کر دے گا ، اور اس شخص کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بات کو پوشیدہ رکھوں ؟ یا اس کا اعلان کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا اعلان کر دو !
یہ روایت امام بزار نے ، قطری نامی راوی کے حوالے سے ، سماک بن حذیفہ سے نقل کی ہے ، امام بزار فرماتے ہیں ۔ ہمیں اس راوی ( یعنی سماک بن حذیفہ ) کا علم ، صرف اسی روایت کے حوالے سے ہے ، اور قطری نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔