مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ . باب: بلا عنوان
عَنْ حَرْبِ بْنِ سُرَيْجٍ قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مَنْ بَلْعَدَوِيَّةَ قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْتُ عِنْدَ الْوَادِي ، فَإِذَا رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا عَنْزٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِذَا الْمُشْتَرِي يَقُولُ لِلْبَائِعِ : " أَحْسِنْ مُبَايَعَتِي " . قَالَ : فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : هَذَا الْهَاشِمِيُّ الَّذِي قَدْ أَضَلَّ النَّاسَ ، أَهْوَ هُوَ ؟ قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْجِسْمِ ، عَظِيمُ الْجَبْهَةِ ، دَقِيقُ الْأَنْفِ ، دَقِيقُ الْحَاجِبَيْنِ ، وَإِذَا مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى سُرَّتِهِ مِثْلُ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ ، شَعْرٌ أَسْوَدُ ، وَإِذَا هُوَ بَيْنَ طِمْرِينِ . ¤ قَالَ : فَدَنَا مِنَّا فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ " . فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ دَعَا الْمُشْتَرِيَ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لَهُ يُحْسِنْ مُبَايَعَتِي . فَمَدَّ يَدَهُ وَقَالَ : " أَمْوَالَكُمْ تَمْلِكُونَ ، إِنِّي أَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشَيْءٍ ظَلَمْتُهُ فِي مَالٍ ، وَلَا فِي دَمٍ ، وَلَا عِرْضٍ ، إِلَّا بِحَقِّهِ ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً سَهْلَ الْبَيْعِ ، سَهْلَ الشِّرَاءِ ، سَهْلَ الْأَخْذِ ، سَهْلَ الْعَطَاءِ ، سَهْلَ الْقَضَاءِ ، سَهْلَ التَّقَاضِي " . ثُمَّ مَضَى ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَقُصَّنَّ هَذَا فَإِنَّهُ حَسَنُ الْقَوْلِ ، فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ بِجَمِيعِهِ فَقَالَ : " مَا تَشَاءُ ؟ " . فَقُلْتُ : أَنْتَ الَّذِي أَضْلَلْتَ النَّاسَ ، وَأَهْلَكْتَهُمْ ، وَصَدَدْتَهُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ ؟ قَالَ : " ذَاكَ اللَّهُ " . قَالَ : مَا تَدْعُو إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " أَدْعُو عِبَادَ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ " . قَالَ : قُلْتُ : مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُؤْمِنُ بِمَا أَنْزَلَهُ عَلَيَّ ، وَتَكْفُرُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ " . قَالَ : قُلْتُ : وَمَا الزَّكَاةُ ؟ قَالَ : " يَرُدُّ غَنِيُّنَا عَلَى فَقِيرِنَا " . قَالَ : قُلْتُ : نِعْمَ الشَّيْءُ تَدْعُو إِلَيْهِ . ¤ قَالَ : فَلَقَدْ كَانَ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ يَتَنَفَّسُ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُ ، فَمَا بَرِحَ حَتَّى كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ وَلَدِي ، وَوَالِدِي ، وَمِنَ النَّاسِ أَجْمَعِينَ . قَالَ : فَقُلْتُ : قَدْ عَرَفْتُ . قَالَ : " قَدْ عَرَفْتَ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ ، وَأَنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، وَتُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيَّ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرِدُ مَاءً عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ، فَأَدْعُوهُمْ إِلَى مَا دَعَوْتَنِي إِلَيْهِ ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يَتَّبِعُوكَ . قَالَ : " نَعَمْ فَادْعُهُمْ " . فَأَسْلَمَ أَهْلُ ذَلِكَ الْمَاءِ رِجَالُهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ ، فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤حرب بن سریج بیان کرتے ہیں : بلعدویہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، وہ کہتے ہیں : میرے دادا نے مجھے یہ بات بتائی ہے : میں مدینہ منورہ گیا ، وہاں میں نے ایک وادی میں پڑاؤ کیا ، وہاں دو افراد موجود تھے ، جن کے درمیان ایک بکری تھی ، خریدار شخص ، فروخت کرنے والے سے کہہ رہا تھا : تم میرے ساتھ اچھی طرح سودا کرنا ، میں نے دل میں سوچا ، یہی ہاشمی نوجوان ہے ، جس نے لوگوں کو گمراہ کیا ہے ، کیا یہ وہی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : جب میں نے غور سے جائزہ لیا ، تو وہ ایسے شخص تھے ، جن کا جسم خوبصورت تھا ، پیشانی بڑی تھی ، ناک پتلی تھی ، بھنویں پتلی تھیں ، ان کے سینے سے لے کر ناف تک سیاہ رنگ کی بالوں کی لکیر سی تھی اور انہوں نے دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ ہمارے قریب آئے اور بولے : السلام علیکم ، ہم نے انہیں سلام کا جواب دیا ، تھوڑی دیر بعد خریدار نے بلایا اور کہا: یا رسول اللہ ! اس سے کہیں کہ یہ میرے ساتھ اچھی طرح سے سودا کرے ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارے اموال ہیں ، تم ان کے مالک ہو ، مجھے یہ امید ہے کہ جب میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا ، تو تم میں سے کوئی ایک شخص کسی ایسی چیز کے حوالے سے مجھ سے مطالبہ نہیں کرے گا ، جو میں نے کسی کے مال یا جان یا عزت کے حوالے سے ، اُس کے ساتھ زیادتی کی ہو ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو فروخت کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، خریدتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، لیتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، دیتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، ادائیگی کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ، اور تقاضا کرتے ہوئے نرمی سے کام لیتا ہے ۔ پھر آپ تشریف لے گئے ، میں نے سوچا : اللہ کی قسم ! میں ان کے پیچھے جاؤں گا ، کیونکہ ان کی بات تو اچھی ہے ، میں آپ کے پیچھے چلا گیا ، میں نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ میری طرف پوری طرح مڑ کر متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا: آپ ہی وہ فرد ہیں ، جنہوں نے لوگوں کو گمراہ کیا ہوا ہے ، اور انہیں ہلاکت کا شکار کر دیا ہے ، اور آپ انہیں اس چیز سے روکتے ہیں جن کی ان کے آباؤ اجداد عبادت کیا کرتے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ( یعنی عبادت کے لائق ) تو اللہ تعالیٰ ہے ، میں نے کہا: آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کی دعوت دیتا ہوں ، میں نے کہا: آپ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، تم اس بات پر ایمان لاؤ ، جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے ، لات اور عزیٰ کا انکار کرو ، تم نماز قائم کرو اور تم زکوۃ دو ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : زکوۃ کیا ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ ہمارے خوش حال لوگ ہمارے غریبوں کو دیتے ہیں ، میں نے کہا: یہ تو اچھی بات ہے ، جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ، پھر راوی نے بیان کیا : پہلے یہ صورت حال تھی کہ روئے زمین پر کوئی بھی فرد ، میرے نزدیک ان سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا ، لیکن پھر یہ عالم ہو گیا کہ آپ میرے نزدیک میری اولاد ، میرے والد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو گئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: میں نے معرفت حاصل کر لی ہے ، آپ نے فرمایا : تم نے جان لیا ہے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کا رسول ہوں ، اور تم اس بات پر ایمان لاؤ ، جو مجھ پر نازل کی گئی ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! میں ایسے پانی پر جاؤں گا جہاں بہت سے لوگ آتے ہیں اور ان لوگوں کو اس چیز کی طرف دعوت دوں گا ، جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں ، تو مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگ آپ کی پیروی کر لیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے ، تم ان کو دعوت دو ، راوی کہتے ہیں : تو اس پانی کے آس پاس رہنے والے لوگوں نے ، ان کے مردوں اور خواتین نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کے سر پر ہاتھ بھی پھیرا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔