حدیث نمبر: 14010
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَحْتَجِمُ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ بِهَذَا الدَّمِ فَأَهْرِيقَهُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ أَحَدٌ " . فَلَمَّا بَرَزْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَدْتُ إِلَى الدَّمِ فَحَسَوْتُهُ ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا صَنَعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ " . قَالَ : جَعَلْتُهُ فِي مَكَانٍ ظَنَنْتُ أَنَّهُ خَافٍ عَنِ النَّاسِ قَالَ : " فَلَعَلَّكَ شَرِبْتَهُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " وَمَنْ أَمَرَكَ أَنْ تَشْرَبَ الدَّمَ ؟ وَيْلٌ لَكَ مِنَ النَّاسِ وَوَيْلٌ لِلنَّاسِ مِنْكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جُنَيْدِ بْنِ الْقَاسِمِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پچھنے لگوا رہے تھے ، جب آپ فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا : اے عبداللہ ! یہ خون لے جاؤ ، اور اسے ایسی جگہ پر بہانا جہاں کوئی اسے نہ دیکھ سکے ، راوی کہتے ہیں : جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے اوجھل ہوا ، تو میں نے اس خون کو پی لیا ، جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عبداللہ ! تم نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے اس کو ایک ایسی جگہ پر رکھ دیا ہے کہ جہاں کے بارے میں مجھے یہ گمان ہے کہ وہ لوگوں سے پوشیدہ رہے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شاید تم نے اُسے پی لیا ہے ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کس نے اس بات کا حکم دیا تھا کہ تم خون کو پی لو ؟ تمہارے لئے لوگوں کے حوالے سے بربادی ہو گی اور لوگوں کے لئے تمہارے حوالے سے بربادی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف جنید بن قاسم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14010
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2436)»