مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ باب: لوگوں پر رحمت کرنا
حدیث نمبر: 13671
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَنْ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَرَاحَمُوا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلُّنَا رَحِيمٌ . قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ بِرَحْمَةِ أَحَدِكُمْ صَاحِبَهُ ، وَلَكِنَّهَا رَحْمَةُ النَّاسِ رَحْمَةُ الْعَامَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ اُس وقت تک مومن نہیں ہو گے ، جب تک ایک دوسرے پر رحم نہیں کرتے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول الله ! ہم سب رحم کرنے والے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد ، تم میں سے کسی ایک کا اپنے ساتھیوں پر رحم کرنا نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد لوگوں پر رحمت کرنا ، سب پر ( یا عمومی طور پر ) رحمت کرنا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔