مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ إِكْرَامِ الْجَارِ باب: پڑوسی کا احترام کرنا
حدیث نمبر: 13551
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ كُلَّهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے ۔ “ یہ کلمات تین مرتبہ ہیں ۔ ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے ۔ “ یہ کلمات بھی تین مرتبہ ہیں ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، پہلی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف علقمہ بن عبداللہ مزنی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔