مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ الْبِرِّ بَعْدَ الْمَوْتِ باب: ( ماں باپ کے ) مرنے کے بعد ، اُن سے اچھا سلوک کرنا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَرَّ قَسَمَهُمَا وَقَضَى دَيْنَهُمَا وَلَمْ يَسْتَسِبَّ لَهُمَا ، كُتِبَ بَارًّا وَإِنْ كَانَ عَاقًّا فِي حَيَاتِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَبَرَّ قَسَمَهُمَا وَيَقْضِي دَيْنَهُمَا وَاسْتَسَبَّ لَهُمَا ، كُتِبَ عَاقًّا وَإِنْ كَانَ بَارًّا فِي حَيَاتِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ان دونوں ( یعنی ماں باپ ) کی قسم کو پورا کرواتا ہے ، اُن دونوں کے قرض کو ادا کرتا ہے اور ان دونوں کو برا کہے جانے کا سبب نہیں بنتا ہے ، اسے نیکوکار نوٹ کیا جاتا ہے ، اگرچہ وہ ( شخص ) اُن ( ماں باپ ) کی زندگی میں نافرمان ہی رہا ہو اور جو شخص اُن کی قسم پوری نہیں کرواتا ، ان کا قرض ادا نہیں کرتا ، ان دونوں کو برا کہے جانے کا سبب بنتا ہے ، اُسے ( ماں باپ کا ) نافرمان نوٹ کیا جاتا ہے ، اگرچہ وہ ان کی زندگی میں ان کا فرمانبردار رہا ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔